کربلا ویوز فاؤنڈیشن کی جانب سے ولایت ٹی وی کا آغاز کر دیا گیا ہے

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

Change how the world works with Biotellus, made for ecology.

  • img
  • img
  • img
  • img
  • img
  • img

Get In Touch

کیا امام علیؑ نے فدک کے معاملے پر ابوبکر سے اتفاق کیا تھا؟

Spread the love

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا یہ  روایات درست ہیں کہ جن میں امام علی علیہ السلام نے فدک کے معاملہ میں ابوبکر کی موافقت کی ۔؟

سید مرتضی علم الہدی فرماتے ہیں جب امیر علیہ السلام حاکم ہوئیے تو فدک کے واپس لینے کے متعلق بات کی گئی تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں ایسی شئی کو واپس کروں جسے ابوبکر نے منع کیا اور عمر نے بھی اسی منع کو جاری رکھا۔

( الشافی للمرتضیٰ،  صفحہ 213،شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید، جلد4 )

اور جب امام محمد باقر علیہ السلام سے اس بارے  میں سوال ہوا اور آپ سے سوال کے نتیجہ میں خیر کثیر ہاتھ آگئی سوال یہ ہوا میری جان آپ پہ قربان ہو کیا آپ کی نظر میں ابوبکر وعمر نے آپ ؑ کے حق میں کوئی ظلم کیا یا کچھ ایسا جو انہوں نے آپ کے حقوق میں سے نہ دیا ہو ؟؟تو آپ ؑ نے فرمایا  ،نہیں اس ذات کی قسم جس نے اپنے بندے پہ فرقان اس لیے نازل کی کہ وہ عالمین کے لئیے نذیر قرار پائیے ان دونوں نے ہمارے حق میں ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا راوی کہتا میں نے عرض کی کیا میں ان دونوں سے محبت رکھ سکتا ہوں ؟؟ تو آپ ؑ نے فرمایا کیوں نہیں تو ان سے دنیاوآخرت میں  محبت رکھ اگر تجھے کچھ نقصان ہوا تو وہ میری گردن پہ ہے

( شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 4 ص 84)

علامہ  مجلسی باوجود اس کے کہ وہ صحابہ پہ کثرت سے نکیر کرتے ہیں ( یہ بات سائل کے خیال کے مطابق ہے ورنہ علامہ مجلسی جیسا محب صحابہ شاید ہی کوئی ہو یہ الگ بات ہے کہ وہ منافقین کے معاملہ میں بہت سخت ہیں اب کوئی کسی منافق کو صحابی گردانے تو علامہ اس سے بری ہیں ) یہ بات کرنے پہ مجبور ہوئیے کہ ابو بکر نے جب جناب فاطمہ ؑ کا غصب دیکھا تو ان سے عرض کی کہ میں آپ کے فضل اور رسول اللہ سے آپ کی قربت کا منکر نہیں ہوں میں نے فدک سے صرف اس لیے منع کیا کہ رسول اللہ کے حکم کی تعمیل کر سکوں میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کو یہ فرماتے ہوئیے سنا کہ ہم گروہ انبیاء ؑ جو  چھوڑ جائیں اس میں ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا سوائے کتاب ،حکمت اور علم کے اور میں نے یہ تمام مسلمانوں کی اتفاق رائے سے ایسا کیا ہے میں اس میں اکیلا نہیں ہوں اگر آپ مال لینا ہی چاہتی ہیں تو آپ میرے مال سےجو چاہیں  لے سکتی ہیں کیونکہ آپ اپنے بابا کی شہزادی ہیں اور اپنے بچوں کے لیے شجرہ طیبہ ہیں کسی کی بھی جرات نہیں کہ آپ کے فضائل کا انکار کرے

(حق الیقین، صفحہ201 ،202 فارسی )

بن میثم جن کا تعلق مذھب شیعہ سے ہے شرح نہج البلاغہ میں روایت کرتے ہیں کہ ابو بکر نے جناب زھراء سلام اللہ علیہا سے کہا کہ آپ کے لیے بھی وہی ہے جو آپ کے بابا کے لیے تھا پیامبر اکرم ﷺ مال فدک سے اپنا ضرورت کا حصہ لیتے تھے باقی تقسیم کردیتے تھے اس اسے راہ خدا میں شمار فرماتے تھے اوراللہ کی طرف سے آپ پر بھی یہی فریضہ ہے کہ آپ بھی ویسا کریں جیسا آپ کے بابا کرتے تھے تو جناب زھراء سلام اللہ علیہا اس پہ راضی ہوگئیں اور اسی پر ابوبکر سے وعدہ فرمایا ( شرح نہج البلاغہ لابن میثم البحرانی، جلد5 ،صفحہ 107 طہران)

اسی قسم  کی ہی  روایات بن میثم ،دنبلی , ابن ابی حدید معتزلی اور معاصر شیعہ عالم فیض الاسلام علی نقی نے بھی نقل کی ہیں ۔ابوبکر فدک کا غلہ اپنے ہاتھ میں لیتے کچھ حصہ اہل بیت کو دیتے جو کہ ان کے لیے کافی ہوتا اور باقی لوگوں میں  تقسیم  کردیتے عمر بھی ایسا کرتے رہے پھر عثمان نے بھی ایسا ہی کیا اور پھر علی علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا

(شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید؛ جلد 4  ،شرح نہج البلاغہ البحرانی؛ جلد 5 ص 107 , الدرہ النجفیہ ؛ص332, شرح نہج البلاغہ فارسی علی نقی؛ جلد 5 ص 960 طھران)

جواب:

برادر محترم جناب علی صاحب

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ سید مرتضیٰ کی کتاب الشافی در اصل قاضی عبد الجبار اسدآبادی المعتزلی کی کتاب المغنی کا جواب اور رَد ہے اور جو بیسویں جلد میں فصل، بعنوانِ ابوبکر کے بارےمیں طعن اور ان کا جواب سے ذکر کیاہے  اسکا جواب ہے ۔

جو آپ نے سید مرتضی کے حوالے سے نقل کیا وہ دراصل قاضی کی باتوں کو نقل کر رہے تھے تاکہ انکا جواب دیا جا سکے ملاحظہ فرمائیے

مغنی جلد 20  330 اور اسکے بعدیہ ملاحظہ  فرمائیے ،الشافی جلد 4 ص 59 ) ان کو ملاحظہ کرنے کے بعد آپ پہ واضح ہوگا کہ جو عبارت آپ کے سوال میں ہے اور ہمارا محل بحث ہے وہ حقیقت میں سید مرتضی کی عبارت ہے ہی نہیں بلکہ سید مرتضی علم الہدی اس خطبہ کی توثیق کررہے تھے جس سے سیدہ ؑنے ابوبکر  پہ احتجاج کیا ۔

سید مرتضی صفحہ 69 میں فرماتے ہیں بہت سارے ایسے  راویوں نے(  جن پہ نہ  شیعہ ہونے کا الزام ہے اور نہ ہی وہ متعصب ہیں ) سیدہ ؑ کے کلام سے جب آپ دربار تشریف لے گئیں ،یا مطالبہ و احتجاج کے بعد واپس تشریف لائیں ایسا نقل کیا جو ہمارے اس دعویٰ کہ آپ ابوبکر پہ غضب ناک اور ناراض تھیں کی حقانیت پہ دلالت کرتا ہے ہم اس میں سے کچھ نقل کرتے ہیں جو ہمارے قول کی تصدیق کر سکے ۔۔

ہمیں محمد بن عمران نے خبر۔۔۔۔پھر صفحہ 37 پہ خطبہ زھراء سلام اللہ پہ مزید اضافہ کیا عروہ بن زبیر کا عائشہ سے نقل کرنا کیا ۔۔۔الخ

پس اگر ان تمام کو مد نظر رکھیں تو واضح ہوگا کہ جو عبارت آپ نے پیش کی ہے ( کہ جب امر خلافت ،علی ؑ تک پہنچا اور فدک کی واپسی ۔۔۔) وہ دراصل عروہ بن زبیر کی روایت ہے جس کو جناب عائشہ سے عروہ نے نقل کیا اور سید نے اصل خطبہ کے بعد اس کا اضافہ کردیا ۔

پس یہ عبارت سید شریف مرتضیٰ کا کلام نہیں ہے کہ آپ اسکی بنیاد پہ ہم پر احتجاج کریں اور نہ ہی یہ سید کی مرویات یا توثیقات میں سے ہے کہ ہم اس کے اقرار یا  جواب کے پابند ہوں۔ یہ تو سید نے اطرادا عروہ بن زبیر کا کلام نقل کیا  ہے تو اس کو سید کا قول کہنا بالکل بھی درست نہیں سید رضی اس سے بالکل بری ہیں اگر کوئی نسبت دے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے قول کو اس کی طرف نسبت دی جس نے کہا ہی نہیں ( گویا تہمت لگائی ) اور یہ امانتِ علمی کے شایان شان نہیں ہے اور سائل اور مسؤل دونوں کے لیے گناہ ہے ۔

اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ عین عبارت کو دقت سے نقل کردیا جائیے تاکہ حق امانت بھی ادا ہو اور نادانی اور جلد بازی سے بھی محفوظ رہ سکیں

1- سید مرتضی ؒ کا اس عبارت ( مجھے اللہ سے حیا ۔۔) کو نقل کرنا اس لیے نہیں تھا کہ وہ اس چیز کا اقرار کر رہے ہیں کہ علی ؑ نے ابوبکر اور عمر کی فدک کے معاملہ میں تائید فرمائی ( معاذاللہ )  بلکہ خود عبارت شیخین کے فدک کوغصب کرنے کو ثابت کر رہی ہے  ناکہ شیخین کی برات کو کیونکہ امیر المومنینؑ کا یہ کہنا کہ میں رد کروں ۔۔۔, دلیل ہے کہ یہ پہلے کسی اور کے ہاتھ میں تھا کیونکہ لفظ رد یعنی واپس، صادق ہی  تب آتا ہے جب پہلے کوئی لے لے۔ دوسری بات یہ کہ جو عبارت میں ہے  ۔۔ابوبکر نے روکا ۔۔۔یعنی خدا یا رسول ﷺنے شرعا نہیں روکا بلکہ ایک شخص نے اپنی طرف سے روکا کہ حق حقدار کو نا دیا جائے اور دوسرے نے بھی اس رکاوٹ کو جاری رکھا

2-امام علی ؑ نے اپنے ایام خلافت میں مروان بن حکم سے فدک واپس لیا تھا ( پس امام کا واپس لینا مزکورہ عبارت کے جھوٹے ہونے پہ دلالت کرتا ہے کہ امام علی ؑ نے شیخین کی تائید  فرمائی تھی)

3- اس بارے  میں کہ امام علیؑ نے اپنے ایام خلافت میں اولاد سیدہ کی املاک بعنوان ملکیت واپس کیوں نہیں پلٹائی اس میں ہماری خاص رائے ہے جو کہ ہماری ویب سائٹ ( الأسئلة العقائديه ) حرف ف میں فدک کے عنوان کے تحت ملاحظہ کی جاسکتی ہے عنوان “مولا علی ؑنے فدک واپس کیوں نہیں لیا” ۔

جو آپ نے دوسری روایت بیان کی ہے کہ امام محمد باقر علیہ۔۔۔۔ تو یہ روایت ابن ابی الحدید نقل کر رہا ہے ہمارے مصادر میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی تائید کرتی ہو اور یہ ہمارے مذھب کی بنیاد کے خلاف ہے جو  ہماری تمام کتب ،شروحات ،اور مناظرات میں  ہیں اس کے خلاف نا ہمارے آئمہ مذھب ،نہ بزرگ علماء اور نہ ہی کوئی عام شیعہ بات کرتا ہے ۔

پھر دوسری بات کہ ہمیں نہیں علم کہ سائل کون ہے ؟؟ اور اس سند میں  راوی کون ہیں ؟؟ کہ ہم اس کی سند کی صحت یا عدم صحت کا حکم لگا سکیں ( روایت میں مجھول صیغہ سے روایت ہے کہ امام سے سوال کیا گیا اب  سائل کون ہے کوئی خبر نہیں اور فن درایہ کا مبتدی بھی جانتا ہے کہ صیغہ مجھول کو صیغہ تمریض کہا جاتا ہے جو کہ روایت کے ضعیف ہونے پہ دلالت کرتا ہے۔ مترجم  ) اگر سوال کرنے والا شیعہ ہے تو شیعہ کو اس بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان کے لیے مسلم ہے کہ فدک حق زھراء تھا اور ان پہ ظلم ہوا لہذا اُن کو سوال کی ضرورت ہی نہیں اور اگر سائل غیر شیعہ تھا تو اس کا مطلب کہ امام کا یہ کلام تقیہ پہ حمل کیا جائیے گا ۔

ابوبکر نے سیدہ ؑ کے کلام کے رد میں روایت پیش کی جس کا سیدہ دوعالم ؑ نے قرآن و سنت اور عقل سے رد پیش کیا مزید تفصیل کے لیے ہماری ویب سائٹ مادہ ف میں فدک کے تحت بعنوان الحجہ عند الزھراء فی قضیہ فدک کی طرف رجوع فرمائیے ۔

اور جو آپ کا یہ سوال کہ ابوبکر اور عمر فدک کے غلہ سے اہل بیتؑ کو دیتے تھے تو یہ ہماری تحقیق کے مطابق  ثابت نہیں اور اگر فرض کریں کہ وہ دیتے بھی ہوں تو بھی اس کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ پہلے غصب بھی تو انہوں نے ہی کیا ہے پس فدک سیدہ دوعالم ؑکا حق ہے جو آپؑ کے بابا ﷺ نے آپ کو عطاء فرمایا یہ وہ زمین ہے جس پہ اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گیے اور یہ جناب سیدہ دوعالم ؑ کے بابا کی طرف سے انکی زندگی میں ہی آپ کی ملکیت بن چکی تھی اور آپ کی زیر تصرف تھی حوالاجات اور تحقیق کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ کریں ۔

آخر میں اس بات کو فراموش نا کریں کہ سیدہ دوعالم ؑ ابوبکر اور عمر پہ غضب کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں یہ کہیں پہ بھی نہیں ہے کہ وہ ابو بکر اور عمر سے راضی ہوئیں اور ابوبکر سے عھد لیا وغیرہ ۔۔۔

اللہ نگہبان